
پنجرے نہیں، نیلا آسمان چاہیے
پرندوں کو سجے ہوئے پنجرے نہیں، نیلا آسمان چاہیے۔ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ہماری چند لمحوں کی تفریح کسی معصوم جانور کی
شمائلہ سیف اللہ جوئیہ کی تازہ ترین تحریریں، مضامین اور فکری آراء

پرندوں کو سجے ہوئے پنجرے نہیں، نیلا آسمان چاہیے۔ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ہماری چند لمحوں کی تفریح کسی معصوم جانور کی

بے زبانوں کے درد کو محسوس کرنا ہی انسانیت کی معراج ہے، مگر کبھی ہم نے سوچا ہے کہ اگر آسمان کی وسعتوں میں اڑنے

وہ ابھی اپنی آنکھیں پوری طرح کھول بھی نہیں پاتا کہ اسے گھاس کی خوشبو سے پہلے سیمنٹ کی دیواروں اور لوہے کی سلاخوں کی

کبھی سوچا ہے کہ پرندوں کے پر صرف اڑنے کے لیے کیوں ہوتے ہیں؟ یا ہرن کے قدموں میں اتنی تیزی کیوں رکھی گئی ہے؟

خدا کی اس وسیع زمین پر جانور صرف زندگی کی بقا اور دو وقت کے رزق کی تلاش میں نکلتے ہیں۔ وہ کسی محل کے

جب ہم کسی خوبصورت پرندے کو سنہری پنجرے میں قید کرتے ہیں، تو ہم صرف اس کے پروں کو نہیں بلکہ اس کی روح کو

قدرت نے ہر جاندار کو ایک وسیع کینوس پر اپنی زندگی کے رنگ بھرنے کے لیے پیدا کیا تھا۔ پرندوں کے لیے نیلگوں آسمان کی

روشنیوں سے جگمگاتے سرکس کے پنڈال اور چڑیا گھروں کے جنگلوں میں جب تالیاں گونجتی ہیں، تو اکثر ان کے پیچھے چھپی وہ سسکیاں دب

کائنات کی وسعتوں میں تخلیقِ الٰہی کا ہر رنگ اپنی جگہ ایک مقصد اور توازن رکھتا ہے۔ اللہ کی بنائی ہوئی اس زمین پر جتنا

وسعتِ فطرت کا حسن کہلانے والی وہیل اور ڈولفن مچھلیاں، جن کا اصل ٹھکانہ ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر اور اس کی لامتناہی گہرائیاں ہیں، آج

کائنات کا حسن صرف انسان کے دم قدم سے نہیں، بلکہ ان تمام جانداروں سے ہے جو اس زمین پر سانس لیتے ہیں۔ لیکن انسانی

عید الاضحیٰ کی آمد ہے اور منڈیوں میں قربانی کے جانوروں کی آمد کا سلسلہ عروج پر ہے، لیکن اس دوران ایسی افسوسناک خبریں تواتر

قدرت نے ریچھ کو پہاڑوں کی بلندیوں، برفانی وادیوں اور گھنے جنگلوں کی وسعتوں کے لیے پیدا کیا تھا۔ اس کے بھاری بھر کم قدموں

عورت صرف ایک رشتہ نہیں، بلکہ محبت، تحمل کی مکمل داستانِ صبر اور ہمت ہے۔ وہ ماں بن کر دعا ہے، بہن بن کر تحفظ

اللہ پاک کا ہر فیصلہ مصلحت سے بھر پور ہوتا ہے، مگر یہ انسان کی کمزوری ہے کہ وہ اپنی محدود سوچ اور جلد بازی

گھر اینٹ اور پتھروں کی دیواروں کا نام نہیں، بلکہ اس سکون کا نام ہے جہاں انسان کے دل کو پناہ ملے۔ جس گھر میں

جب اللہ تمہارے مرتبے کو بلند کرنا چاہتا ہے تو وہ تمہیں آسائشیں نہیں بلکہ ایسے لمحات عطا کرتا ہے جو تمہیں اندر سے تبدیل

کبھی کبھی ہم دوسروں جیسا بننے کی کوشش میں اپنی وہ پہچان کھو دیتے ہیں جو کائنات میں صرف ہماری تھی۔ ہم چہروں پر مسکراہٹیں

کائنات کے ماتھے کا جھومر وہ پسینہ ہے جو کسی مزدور کی جبیں سے رزق حلال کی جستجو میں ٹپکتا ہے۔ آج کا دن ان

تعلیم صرف ڈگری کا نام نہیں، بلکہ یہ وہ تراش ہے جو ایک بیٹی کی شخصیت کو ہیرا بنا دیتی ہے۔ جب والدین اپنی محنت،

کائنات کی خوبصورتی اور زندگی کی تمام تر رعنائیاں اس ایک ہستی کے گرد گھومتی ہیں جسے ہم “ماں” کہتے ہیں۔ ماں صرف ایک رشتہ