بے زبانوں کی قیدِ تنہائی

بے زبانوں کی قیدِ تنہائی

بے زبانوں کی قیدِ تنہائی

قدرت نے ہر جاندار کو ایک وسیع کینوس پر اپنی زندگی کے رنگ بھرنے کے لیے پیدا کیا تھا۔ پرندوں کے لیے نیلگوں آسمان کی وسعتیں تھیں، شیروں کے لیے جنگل کی ہیبت ناک خاموشی اور مچھلیوں کے لیے سمندروں کی اتھاہ گہرائیاں۔ لیکن جب انسان نے ان جانداروں کو لوہے کی سلاخوں اور شیشے کی دیواروں میں قید کیا، تو صرف ان کا جسم قید نہیں ہوا، بلکہ ان کی روح بھی زخمی ہو گئی۔

ایک قیدی جانور کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھیں تو وہاں وہ چمک مفقود ہوتی ہے جو کھلی فضاؤں میں نظر آتی ہے۔

نفسیاتی طور پر یہ جانور زوکوسس کا شکار ہو جاتے ہیں، جس میں وہ ایک ہی جگہ بار بار چکر لگاتے ہیں یا اپنا سر دیواروں سے ٹکراتے ہیں۔ یہ ان کی اس ذہنی اذیت کا اظہار ہے جو تنہائی اور بے بسی سے جنم لیتی ہے۔ شکار کرنا، اپنے ساتھیوں کے ساتھ میلوں کا سفر کرنا اور اپنے علاقے کی حفاظت کرنا ان کی جبلت کا حصہ ہے۔

جب ایک عقاب کے پروں کو پنجرے کی حدیں چھونے لگیں، تو وہ اڑنا نہیں بھولتا، بلکہ اڑنے کی آرزو میں مرنے لگتا ہے۔ ان کی فطری مہارتیں زنگ آلود ہو جاتی ہیں اور وہ محض ایک زندہ لاش بن کر رہ جاتے ہیں۔

محدود جگہ ان کی جسمانی صحت کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔ پٹھوں کا اکڑ جانا، موٹاپا اور وہ بیماریاں جو کھلے ماحول میں کبھی ان کے قریب نہیں پھٹکتی تھیں، قید میں ان کا مقدر بن جاتی ہیں۔

وہ زمین جو ان کے قدموں کی دھمک سے تھراتی تھی، اب ایک چھوٹے سے کنکریٹ کے فرش تک محدود ہو کر ان کے وجود کو تھکا دیتی ہے۔

ہم تفریح کے لیے چڑیا گھر جاتے ہیں، تالیاں بجاتے ہیں اور تصاویر کھینچتے ہیں، لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ جسے ہم خوبصورت نمائش سمجھ رہے ہیں، وہ کسی کی پوری زندگی کی قیدِ تنہائی ہے۔

جانوروں کا اصل حسن ان کی آزادی میں ہے۔ سچی ہمدردی یہ نہیں کہ انہیں سنہری پنجروں میں رکھا جائے، بلکہ سچی ہمدردی یہ ہے کہ انہیں ان کے فطری گھروں میں رہنے دیا جائے، جہاں وہ اپنی مرضی سے سانس لے سکیں اور اپنی مرضی سے مر سکیں۔ آزادی ہر اس دل کا حق ہے جو دھڑکتا ہے۔