بے زبانوں کی پکار : سسکتی زندگی اور ہماری ذمہ داری

بے زبانوں کی پکار : سسکتی زندگی اور ہماری ذمہ داری

بے زبانوں کی پکار : سسکتی زندگی اور ہماری ذمہ داری

کائنات کا حسن صرف انسان کے دم قدم سے نہیں، بلکہ ان تمام جانداروں سے ہے جو اس زمین پر سانس لیتے ہیں۔ لیکن انسانی ترقی کی ہوس اور سائنسی تجربات کی آڑ میں ان معصوم جانوروں پر جو ظلم ڈھایا جاتا ہے، وہ انسانیت کے ماتھے پر ایک بدنما داغ ہے۔

ایک لیبارٹری کے ٹھنڈے فرش پر پنجرے میں قید وہ معصوم آنکھیں ہم سے سوال کرتی ہیں کہ کیا ہمارا گوشت اور خون صرف اس لیے ہے کہ اسے سوئیوں اور کیمیکلز سے چھلنی کیا جائے؟ کیا ان کی دھڑکنیں اتنی بے وقعت ہیں کہ انہیں صرف ایک ‘ٹیسٹ سبجیکٹ’ سمجھ کر مٹا دیا جائے؟

سائنس کی ترقی بے شک ضروری ہے، لیکن اس کی قیمت کسی کی تڑپ اور بے بسی بھی نہیں ہونی چاہیے۔ ایک کتے کی وفادار آنکھیں ہوں یا ایک ننھے خرگوش کی تھرتھراہٹ، ان میں وہی درد ہوتا ہے جو ایک انسان محسوس کرتا ہے۔ وہ بول نہیں سکتے، وہ اپنا مقدمہ نہیں لڑ سکتے، اور یہی ان کا سب سے بڑا قصور بن گیا ہے۔

جانوروں پر ہونے والے یہ تجربات نہ صرف سنگدلی ہیں بلکہ فطرت کے اصولوں کے خلاف بھی ہیں۔ ہمیں ایسی متبادل ٹیکنالوجیز کی طرف قدم بڑھانا ہو گا جہاں زندگی کو بچانے کے لیے کسی دوسری زندگی کا گلا نہ گھونٹا جائے۔

یاد رکھیں، جو ہاتھ کسی بے زبان کے زخم پر مرہم نہیں رکھ سکتے، انہیں ترقی یافتہ کہلانے کا کوئی حق نہیں۔ ان بے زبانوں کو اس ظلم سے بچانا ہم پر صرف اخلاقی فرض نہیں، بلکہ یہ ہمارے انسان ہونے کا امتحان ہے۔

آئیے، ان کی خاموشی کی آواز بنیں اور ایک ایسی دنیا کی بنیاد رکھیں جہاں ہر جاندار خوف کے بغیر سانس لے سکے۔