کائنات کی وسعتوں میں تخلیقِ الٰہی کا ہر رنگ اپنی جگہ ایک مقصد اور توازن رکھتا ہے۔ اللہ کی بنائی ہوئی اس زمین پر جتنا حق انسان کا ہے، اتنا ہی ان بے زبان مخلوقات کا بھی ہے جو لفظوں میں اپنا دکھ بیان نہیں کر سکتیں۔ گلیوں میں پھرنے والے یہ کتے محض آوارہ جانور نہیں بلکہ قدرت کا وہ حصہ ہیں جو انسانی بستیوں کے گرد وفاداری اور رکھوالی کی علامت رہے ہیں۔ افسوس کہ ہم نے اپنے خوف اور لاپرواہی کا حل ان معصوم جانوروں کو مارنے میں تلاش کر لیا ہے، جبکہ اصل انسانیت اور دانشمندی انہیں ختم کرنے میں نہیں بلکہ ان کی حفاظت اور باہمی بقا میں پوشیدہ ہے۔
ان بے زبانوں کو بے دردی سے مارنا نہ صرف اخلاقی گراوٹ ہے بلکہ خالقِ کائنات کی تخلیق کی توہین بھی ہے۔کتے بھی درد محسوس کرتے ہیں، انہیں بھی بھوک لگتی ہے اور وہ بھی زندگی کی تڑپ رکھتے ہیں۔
اگر ہم واقعی ایک مہذب معاشرے کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں تشدد کی بجائے شعور کا راستہ اپنانا ہوگا۔ کتوں کو مارنے کی بجائے ان کی ویکسینیشن اور نس بندی جیسے سائنسی طریقوں پر کام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ویکسین کے ذریعے ہم نہ صرف انسانی جانوں کو محفوظ بنا سکتے ہیں بلکہ ان جانوروں کو بھی ایک اذیت ناک موت سے بچا سکتے ہیں۔
محبت اور رحم دلی وہ جذبے ہیں جو انسان کو اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز کرتے ہیں۔ جب ہم ایک بے زبان کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھتے ہیں یا اسے زندگی دینے کی کوشش کرتے ہیں، تو درحقیقت ہم اپنے اندر کی انسانیت کو زندہ کرتے ہیں۔ یہ کتے اللہ کی وہ مخلوق ہیں جو اپنی فریاد صرف اپنے رب کے سامنے لے کر جاتے ہیں۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ کسی کی زندگی چھیننا آسان ہے، لیکن اسے بچانا ہی اصل بہادری ہے۔
آئیے عہد کریں کہ ہم ان بے زبانوں کی آواز بنیں گے اور معاشرے میں یہ پیغام عام کریں گے کہ جینے کا حق سب کا ہے،چاہے وہ بول سکے یا نہ بول سکے۔





