کائنات کے ماتھے کا جھومر وہ پسینہ ہے جو کسی مزدور کی جبیں سے رزق حلال کی جستجو میں ٹپکتا ہے۔
آج کا دن ان ہاتھوں کے نام ہے جو پتھروں کو تراش کر شاہکار بناتے ہیں، جو کڑی دھوپ میں خود جل کر دوسروں کے لیے ٹھنڈی چھاؤں تعمیر کرتے ہیں، اور جو اپنے لہو کی تپش سے اس جہانِ رنگ و بو میں زندگی کی حرارت برقرار رکھتے ہیں۔
محنت کش صرف وہ نہیں جو بوجھ اٹھاتا ہے؛ محنت کش ہر وہ وجود ہے جو دیانت داری کی مشعل تھامے اپنے حصے کا کام کرتا ہے۔ چاہے وہ مٹی کو سونا اگانے والا کسان ہو، شعور کی رونقیں بحال رکھتا قلم کار ہو، یا قلم کی راہیں روشن کرتا کوئی تخلیق کار۔
مانگنے والے ہاتھوں سے وہ ہاتھ ہزار درجہ بہتر اور معتبر ہیں جن پر محنت کے آبلے ہوں، کیونکہ خالق کائنات نے محنت کرنے والے کو اپنا دوست قرار دیا ہے۔ یہ کھردری ہتھیلیاں در اصل انسانیت کا مان اور تہذیب کا سنگ بنیاد ہیں۔
آئیے آج کے دن یہ عہد کریں کہ ہم مزدور کو صرف اس کی اجرت ہی وقت پر نہیں دیں گے، بلکہ اسے وہ وقار، احترام اور محبت بھی دیں گے جس کا وہ حقدار ہے۔ یاد رکھیے، بلند و بالا عمارتیں صرف اینٹ اور گارے سے نہیں، بلکہ ان گمنام مزدوروں کے خوابوں اور حوصلوں سے سربلند ہوتی ہیں۔ تمام محنت کشوں کو یوم مئی مبارک!





