بے زبانوں کی فریاد : تفریح یا تذلیل؟

بے زبانوں کی فریاد : تفریح یا تذلیل؟

بے زبانوں کی فریاد : تفریح یا تذلیل؟

روشنیوں سے جگمگاتے سرکس کے پنڈال اور چڑیا گھروں کے جنگلوں میں جب تالیاں گونجتی ہیں، تو اکثر ان کے پیچھے چھپی وہ سسکیاں دب جاتی ہیں جو ان بے زبانوں کے حلق میں قید ہوتی ہیں۔ ایک ہاتھی کا گیند پر توازن برقرار رکھنا یا کسی شیر کا آگ کے گولے سے گزر جانا انسانی آنکھ کے لیے ایک دلچسپ کرتب ہو سکتا ہے، لیکن اس ایک سیکنڈ کی مہم جوئی کے پیچھے مہینوں کی وہ اذیت ناک خاموشی چھپی ہوتی ہے جو لوہے کی سلاخوں اور بھاری زنجیروں کے سائے میں پروان چڑھتی ہے۔

قدرت نے جن پرندوں کو لامحدود آسمان کی وسعتیں دی تھیں، وہ آج چند فٹ کے پنجروں میں اپنی پرواز بھول چکے ہیں، اور وہ درندے جن کی دھاڑ سے جنگل تھرا اٹھتا تھا، اب محض ایک گوشت کے ٹکڑے کی خاطر کوڑے کی نوک پر ناچنے کے لیے مجبور کر دیے گئے ہیں۔

ان جانوروں کو کرتب سکھانے کا عمل کوئی پیار کا سبق نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک نہ ختم ہونے والے تشدد کی داستان ہے جہاں بھوک، پیاس اور جسمانی درد کے ذریعے ان کی فطری خودداری کو توڑا جاتا ہے۔

جب ہم کسی جانور کو کوئی عجیب و غریب حرکت کرتے دیکھ کر مسکراتے رہتے ہیں، تو ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ اپنی خوشی سے نہیں بلکہ اس خوف سے یہ سب کر رہا ہے کہ اگر وہ رکا تو اسے دوبارہ لوہے کی گرم سلاخوں یا تیکھے آنکُس کا سامنا کرنا پڑے گا۔

بے زبان مخلوق اپنی تکلیف بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں رکھتی، لیکن ان کی اداس اور بے نور آنکھیں ہم سے سوال کرتی ہیں کہ کیا ہماری چند لمحوں کی تفریح ان کی زندگی بھر کی غلامی اور اذیت سے زیادہ قیمتی ہے؟

اصل خوبصورتی کسی پرندے کو پنجرے میں چہچہاتے دیکھنے میں نہیں، بلکہ اسے آزاد فضا میں پر پھیلائے دیکھنے میں ہے

کیونکہ زندگی چاہے انسان کی ہو یا حیوان کی، آزادی ہی اس کا سب سے بڑا حسن اور بنیادی حق ہے۔