سلاخوں میں جنم لینے والی معصومیت

سلاخوں میں جنم لینے والی معصومیت

سلاخوں میں جنم لینے والی معصومیت

وہ ابھی اپنی آنکھیں پوری طرح کھول بھی نہیں پاتا کہ اسے گھاس کی خوشبو سے پہلے سیمنٹ کی دیواروں اور لوہے کی سلاخوں کی بو آتی ہے۔ وہ ایک “جنگلی” جانور ہے، مگر اس نے کبھی جنگل نہیں دیکھا۔ اس کے پاس طاقتور بازو ہیں، مگر اڑنے کے لیے آسمان نہیں، اور دوڑنے کے لیے مضبوط ٹانگیں ہیں، مگر زمین صرف چند گز پر محیط ہے۔ چڑیا گھر میں پیدا ہونے والا بچہ دراصل ایک “موروثی قیدی” ہوتا ہے، جس کا جرم صرف اتنا ہے کہ وہ خوبصورت ہے یا نایاب۔

جب ایک ننھا ہرن یا شیر کا بچہ پہلی بار اپنے قدموں پر کھڑا ہوتا ہے، تو اسے دیکھنے والوں کا ہجوم تو ملتا ہے، لیکن وہ فطری آزادی نہیں ملتی جو قدرت نے اس کے ڈی این اے میں لکھی تھی۔اس کی زندگی سراسر فطرت سے دوری کا نام ہے۔ اسے شکار کرنا نہیں سکھایا جاتا، بلکہ گوشت کا ٹکڑا اسے پلیٹ میں ملتا ہے۔ وہ ہزاروں انسانوں کے درمیان ہو کر بھی اپنی نوع کی اصل زندگی سے کٹا ہوا ہوتا ہے اور ایک گہرے احساسِ تنہائی کا شکار رہتا ہے۔ اس کے لیے یہ دنیا بالکل مصنوعی ہے، جہاں “درخت” صرف ایک لکڑی کا کھمبا ہے اور “ندی” محض ایک پانی کا ٹینک۔

جانوروں کو قید رکھنا محض تفریح کا ذریعہ نہیں ہونا چاہیے۔ اگرچہ بعض اوقات نسلوں کو بچانے کے لیے انہیں محفوظ مقامات پر رکھنا ضروری ہوتا ہے، لیکن ہمیں بطور انسان چند اہم باتوں پر غور کرنا ہوگا۔

ہمیں چڑیا گھر کو صرف ایک “پکنک پوائنٹ” سمجھنے کے بجائے ان بے زبانوں کے دکھ کا احساس کرنا چاہیے۔ وہاں ہونے والا شور و غل اور انہیں تنگ کرنا ان کی ذہنی اذیت میں اضافہ کرتا ہے، اس لیے ہمیں تفریح سے زیادہ ان کے احترام کو اہمیت دینی چاہیے۔

ہمیں ایسے سفاری پارکس کی حمایت کرنی چاہیے جہاں جانور قید کے بجائے کھلے ماحول میں رہیں اور انسان انہیں دور سے دیکھ سکیں۔ اگر ہم کسی بچے کو پنجرے میں دیکھ کر خوش ہو رہے ہیں، تو ہمیں ایک لمحے کے لیے سوچنا چاہیے کہ کیا ہم اپنی اولاد کو زندگی بھر ایک کمرے میں بند دیکھ کر خوش ہو سکتے ہیں؟ آزادی ہر جاندار کا بنیادی حق ہے، اور اگر ہم انہیں مکمل آزاد نہیں کر سکتے، تو کم از کم ان کے لیے ایسا ماحول تو فراہم کریں جہاں انہیں قید کا احساس کم اور زندگی کا احساس زیادہ ہو۔

وہ ہمارے محتاج ہیں، اور محتاجوں کے ساتھ حسنِ سلوک ہی انسانیت کی معراج ہے۔