پروں میں اڑان اور آنکھوں میں خواب

پروں میں اڑان اور آنکھوں میں خواب

پروں میں اڑان اور آنکھوں میں خواب

جب ہم کسی خوبصورت پرندے کو سنہری پنجرے میں قید کرتے ہیں، تو ہم صرف اس کے پروں کو نہیں بلکہ اس کی روح کو قید کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ خوبصورت گیت جو وہ گاتا ہے، وہ خوشی کا نغمہ نہیں بلکہ اپنی آزادی کا نوحہ ہوتا ہے۔ لوہے کی سلاخیں چاہے سونے کی ہی کیوں نہ ہوں، وہ اس اڑان کا نعم البدل نہیں ہو سکتیں جو اسے وسیع فضاؤں میں نصیب ہوتی ہے۔

پرندے کا اصل ٹھکانہ وہ شاخ ہے جو ہوا کے دوش پر لہراتی ہے، نہ کہ وہ پنجرہ جہاں وہ صرف دانے کا محتاج ہو۔

ذرا سوچیے، اگر ہمیں ایک کمرے میں تمام آسائشوں کے ساتھ بند کر دیا جائے لیکن باہر جانے کی اجازت نہ ہو، تو کیا ہم خوش رہ سکیں گے؟ بالکل نہیں۔

آزادی ہر جاندار کا وہ زیور ہے جس کے چھن جانے سے زندگی صرف ایک بوجھ بن کر رہ جاتی ہے۔