بے زبانوں کے درد کو محسوس کرنا ہی انسانیت کی معراج ہے، مگر کبھی ہم نے سوچا ہے کہ اگر آسمان کی وسعتوں میں اڑنے والے پرندے کے پر کاٹ دیے جائیں، یا جنگل کے بادشاہ کو چند فٹ کے لوہے کے پنجرے میں قید کر دیا جائے، تو اس کے معصوم دل پر کیا گزرتی ہوگی؟ آزادی صرف انسان کا خواب نہیں بلکہ ہر جاندار کی بنیادی ضرورت اور فطری حق ہے۔ یہ بے زبان بول نہیں سکتے، مگر ان کی اداس آنکھیں سب کچھ کہہ دیتی ہیں۔ جب ہم کسی طوطے کو رنگین پنجرے میں قید کر کے اس کی آواز پر خوش ہوتے ہیں، تو درحقیقت ہم اس کی چہچہاہٹ نہیں بلکہ اس کا وہ ماتم سن رہے ہوتے ہیں جو وہ اپنے ساتھیوں اور کھلے آسمان کو پکارنے کے لیے کرتا ہے۔
پرندوں کا اصل گھر درختوں کی جھومتی شاخیں اور نیلا آسمان ہے، سجے ہوئے مصنوعی پنجرے نہیں۔ اسی طرح جنگلی جانوروں کی شان کھلے میدانوں میں دوڑنے اور اپنی جبلت کے مطابق جینے میں ہے، نہ کہ چڑیا گھر کی سنگدل سلاخوں کے پیچھے تماشائیوں کا دل بہلانے میں۔ ہمیں ان کا شکاری نہیں بلکہ ان کا محافظ اور سہارا بننا چاہیے۔
اگر آپ کے پاس کوئی پرندہ قید ہے، تو اسے آزاد کر دیں۔ یقین مانیں، اس کی دعا اور اس کی آزادی کا منظر آپ کی روح کو جو سکون دے گا، وہ کسی اور شے میں ممکن نہیں۔
کہیں بھی جانوروں پر تشدد دیکھیں تو خاموش نہ رہیں کیونکہ آپ کی ایک آواز کسی کی پوری زندگی بدل سکتی ہے۔
اللہ کی بنائی ہوئی اس وسیع کائنات میں ہر جاندار کا اپنا مقام ہے اور انہیں قید کر کے ہم قدرت کے حسن اور توازن کو بگاڑ رہے ہیں۔ کسی بے زبان کو اپنی تفریح کے لیے زنجیروں میں جکڑنا انسانیت نہیں بلکہ اس کی روح کو زخمی کرنا ہے۔
آئیے آج یہ پختہ عہد کریں کہ ہم ان بے زبانوں کی آواز بنیں گے اور انہیں قیدِ تنہائی سے نکال کر ان کے فطری ماحول میں جینے کا حق دیں گے، کیونکہ کائنات کی حقیقی خوبصورتی قید کے اندھیروں میں نہیں بلکہ آزادی کی روشنی میں پنہاں ہے۔





