
پنجرے نہیں، نیلا آسمان چاہیے
پرندوں کو سجے ہوئے پنجرے نہیں، نیلا آسمان چاہیے۔ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ہماری چند لمحوں کی تفریح کسی معصوم جانور کی

پرندوں کو سجے ہوئے پنجرے نہیں، نیلا آسمان چاہیے۔ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ہماری چند لمحوں کی تفریح کسی معصوم جانور کی

بے زبانوں کے درد کو محسوس کرنا ہی انسانیت کی معراج ہے، مگر کبھی ہم نے سوچا ہے کہ اگر آسمان کی وسعتوں میں اڑنے

وہ ابھی اپنی آنکھیں پوری طرح کھول بھی نہیں پاتا کہ اسے گھاس کی خوشبو سے پہلے سیمنٹ کی دیواروں اور لوہے کی سلاخوں کی

کبھی سوچا ہے کہ پرندوں کے پر صرف اڑنے کے لیے کیوں ہوتے ہیں؟ یا ہرن کے قدموں میں اتنی تیزی کیوں رکھی گئی ہے؟

خدا کی اس وسیع زمین پر جانور صرف زندگی کی بقا اور دو وقت کے رزق کی تلاش میں نکلتے ہیں۔ وہ کسی محل کے

جب ہم کسی خوبصورت پرندے کو سنہری پنجرے میں قید کرتے ہیں، تو ہم صرف اس کے پروں کو نہیں بلکہ اس کی روح کو

قدرت نے ہر جاندار کو ایک وسیع کینوس پر اپنی زندگی کے رنگ بھرنے کے لیے پیدا کیا تھا۔ پرندوں کے لیے نیلگوں آسمان کی

روشنیوں سے جگمگاتے سرکس کے پنڈال اور چڑیا گھروں کے جنگلوں میں جب تالیاں گونجتی ہیں، تو اکثر ان کے پیچھے چھپی وہ سسکیاں دب

کائنات کی وسعتوں میں تخلیقِ الٰہی کا ہر رنگ اپنی جگہ ایک مقصد اور توازن رکھتا ہے۔ اللہ کی بنائی ہوئی اس زمین پر جتنا

وسعتِ فطرت کا حسن کہلانے والی وہیل اور ڈولفن مچھلیاں، جن کا اصل ٹھکانہ ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر اور اس کی لامتناہی گہرائیاں ہیں، آج