
انسانیت کا تماشہ : ایک قیدی کی دہائی
قدرت نے ریچھ کو پہاڑوں کی بلندیوں، برفانی وادیوں اور گھنے جنگلوں کی وسعتوں کے لیے پیدا کیا تھا۔ اس کے بھاری بھر کم قدموں

قدرت نے ریچھ کو پہاڑوں کی بلندیوں، برفانی وادیوں اور گھنے جنگلوں کی وسعتوں کے لیے پیدا کیا تھا۔ اس کے بھاری بھر کم قدموں

عورت صرف ایک رشتہ نہیں، بلکہ محبت، تحمل کی مکمل داستانِ صبر اور ہمت ہے۔ وہ ماں بن کر دعا ہے، بہن بن کر تحفظ

اللہ پاک کا ہر فیصلہ مصلحت سے بھر پور ہوتا ہے، مگر یہ انسان کی کمزوری ہے کہ وہ اپنی محدود سوچ اور جلد بازی

گھر اینٹ اور پتھروں کی دیواروں کا نام نہیں، بلکہ اس سکون کا نام ہے جہاں انسان کے دل کو پناہ ملے۔ جس گھر میں

جب اللہ تمہارے مرتبے کو بلند کرنا چاہتا ہے تو وہ تمہیں آسائشیں نہیں بلکہ ایسے لمحات عطا کرتا ہے جو تمہیں اندر سے تبدیل

کبھی کبھی ہم دوسروں جیسا بننے کی کوشش میں اپنی وہ پہچان کھو دیتے ہیں جو کائنات میں صرف ہماری تھی۔ ہم چہروں پر مسکراہٹیں

کائنات کے ماتھے کا جھومر وہ پسینہ ہے جو کسی مزدور کی جبیں سے رزق حلال کی جستجو میں ٹپکتا ہے۔ آج کا دن ان

تعلیم صرف ڈگری کا نام نہیں، بلکہ یہ وہ تراش ہے جو ایک بیٹی کی شخصیت کو ہیرا بنا دیتی ہے۔ جب والدین اپنی محنت،

کائنات کی خوبصورتی اور زندگی کی تمام تر رعنائیاں اس ایک ہستی کے گرد گھومتی ہیں جسے ہم “ماں” کہتے ہیں۔ ماں صرف ایک رشتہ

تیرہ جون 2026- محترمہ شمائلہ سیف اللہ جوئیہ کی پہلی تصنیف نقشِ آگہی کی پروقار تقریبِ رونمائی و پذیرائی چائے خانہ، گلگشت ملتان میں