کبھی کبھی ہم دوسروں جیسا بننے کی کوشش میں اپنی وہ پہچان کھو دیتے ہیں جو کائنات میں صرف ہماری تھی۔ ہم چہروں پر مسکراہٹیں سجا لیتے ہیں، لفظوں کو بنا سنوار کر پیش کرتے ہیں اور خود کو ایک ایسے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں جو دنیا کو پسند آ سکے۔
لیکن سچ تو یہ ہے کہ خوبصورتی پردوں میں نہیں، سچائی میں ہے۔ جیسے مٹی کی اپنی خوشبو کسی مصنوعی عطر کی محتاج نہیں ہوتی، ویسے ہی ایک سچا انسان اپنی تمام تر خامیوں کے ساتھ بھی سب سے منفرد ہوتا ہے۔
اصلیت میں سکون ہے۔ جب آپ وہ ہوتے ہیں جو آپ واقعی ہیں، تو آپ کو لفظ یاد نہیں رکھنے پڑتے، نہ ہی لہجے بدلنے پڑتے ہیں۔ آپ کی خاموشی بھی ایک اثر رکھتی ہے۔ نقالی عارضی ہے، اصلیت دائمی۔ دنیا میں ہر چیز کی نقل مل سکتی ہے، لیکن آپ کے احساسات، آپ کے تجربات اور آپ کی روح کا کوئی دوسرا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔
کسی کے لیے خود کو بدلنے سے بہتر ہے کہ خود کو نکھارا جائے۔ ٹوٹے ہوئے لفظ، ادھورے جملے اور کچی آنکھیں ان مصنوعی قہقہوں سے ہزار ہزار گنا بہتر ہیں جن کے پیچھے تھکن چھپی ہو۔
یاد رکھیے! آپ جیسے بھی ہیں، ادھورے یا مکمل، آپ کا “اصل” ہی آپ کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ اپنی سادگی کو اپنی پہچان بنائیے، کیونکہ چاند کی اپنی چاندنی ہی اسے ستاروں کے ہجوم میں ممتاز کرتی ہے۔





