عید الاضحیٰ کی آمد ہے اور منڈیوں میں قربانی کے جانوروں کی آمد کا سلسلہ عروج پر ہے، لیکن اس دوران ایسی افسوسناک خبریں تواتر سے سننے کو مل رہی ہیں جو انسانیت اور ہمدردی پر کئی سوالات کھڑی کرتی ہیں۔
قربانی کے ان معصوم جانوروں کے ساتھ روا رکھا جانے والا ظالمانہ سلوک انتہائی دلخراش ہے۔ کہیں جانور شدید گرمی اور بھوک کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ رہے ہیں، حالانکہ ان بے زبانوں کی کوئی بڑی فرمائش نہ تھی؛ انہیں صرف وقت پر چارہ اور پانی فراہم کرنا تھا لیکن وہ بھی میسر نہ آ سکا۔ نہ جانے وہ کتنے دنوں سے پیاسے اور فاقہ کشی کا شکار تھے۔
بے حسی کی انتہا تو یہ ہے کہ زیادہ منافع کمانے کے چکر میں بکروں کو بسوں کے نچلے حصے میں سامان رکھنے والی جگہوں پر ٹھونس کر لایا جا رہا ہے، جہاں حبس اور دم گھٹنے سے وہ تڑپ تڑپ کر مر رہے ہیں۔ سب سے زیادہ لمحۂ فکریہ ہمارا اپنا رویہ ہے۔ ہم خود کو مسلمان کہتے ہیں لیکن ہمارا ضمیر ان جانوروں کی تکلیف پر نہیں تڑپتا۔ ہمیں دکھ اس بات کا نہیں ہوتا کہ ایک جاندار بے موت مر گیا، بلکہ افسوس صرف اس مالی نقصان پر ہوتا ہے کہ اگر یہ جانور عید تک سلامت رہتے تو ان کی بہت اچھی قیمت مل جاتی۔ ہم نے شاید قربانی کی اصل روح کو بھلا کر اسے محض ایک بے حس کاروبار بنا لیا ہے۔





