قدرت نے ریچھ کو پہاڑوں کی بلندیوں، برفانی وادیوں اور گھنے جنگلوں کی وسعتوں کے لیے پیدا کیا تھا۔ اس کے بھاری بھر کم قدموں میں ایک وقار اور اس کی فطرت میں جنگل کا رعب تھا، لیکن افسوس کہ انسان نے اپنی عارضی خوشی اور چند سکوں کی خاطر اس شاہانہ جاہ و جلال کو تماشہ بنا دیا۔
جب ایک ننھے ریچھ کو اس کی ماں سے چھین کر لایا جاتا ہے، تو وہیں سے اس کی زندگی کی سسکیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ اس کی نرم ناک میں لوہے کی تپتی ہوئی سلاخ سے سوراخ کر کے موٹی نکیل ڈال دینا محض ایک عمل نہیں، بلکہ اس کی روح کو ہمیشہ کے لیے زخمی کر دینے کا آغاز ہے۔
وہ پاؤں جو میلوں کا سفر طے کرنے کے لیے بنے تھے، اب چند فٹ کی زنجیر میں جکڑے ہوئے ہیں۔ جب وہ تماشائیوں کے ہجوم میں اچھلتا ہے، تو وہ خوشی سے نہیں ناچتا، بلکہ وہ اس شدید درد سے بچنے کے لیے تڑپتا ہے جو نکیل کھینچے جانے پر اسے محسوس ہوتا ہے۔ ہم جسے ‘رقص’ سمجھ کر تالیاں بجاتے ہیں، وہ در حقیقت اس بے زبان کی ایک ایسی خاموش چیخ ہے جو آسمان کو ہلا دینے کے لیے کافی ہے۔
کیا ہم اتنے سنگدل ہو چکے ہیں کہ کسی جاندار کی اذیت ہماری تفریح کا ذریعہ بن جائے؟
کیا ہماری انا اتنی بڑی ہو گئی ہے کہ ہم ایک جیتے جاگتے وجود کی آزادی چھین کر اسے قیدی بنا لیں۔
خدا کی زمین پر بسنے والا ہر جاندار آزاد پیدا ہوا ہے، اور کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنی ضرورت کے لیے کسی کی فطرت کو مسخ کرے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس ظالمانہ روایت کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیں۔ ہمیں ایسے ہر تماشے کا بائیکاٹ کرنا ہوگا جو کسی کی تکلیف پر مبنی ہو، اور آواز اٹھانی ہوگی تاکہ ان بے زبانوں کو ان کی نکیلوں سے نجات مل سکے۔ ان ریچھوں کی اصل جگہ سرکس کا تپتا ہوا فرش نہیں، بلکہ قدرت کی ٹھنڈی آغوش ہے۔
آئیے عہد کریں کہ ہم ان بے آوازوں کی آواز بنیں گے اور اس ظلم کی زنجیروں کو کاٹ کر ہی دم لیں گے، کیونکہ جب یہ جاندار آزاد ہوں گے، تبھی ہماری انسانیت حقیقی معنوں میں معتبر کہلائے گی۔





